الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِحْنَةِ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ بِحَدِيثِ الْإِنكِ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ باب: غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَمْزَحُ مَعَهُ قَدْ فَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُهُ قَالَ الْبَرَاءُ إِنِّي لَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَرَّ يَوْمَئِذٍ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُفِرَ الْخَنْدَقُ وَهُوَ يَنْقُلُ مَعَ النَّاسِ التُّرَابَ وَهُوَ يَتَمَثَّلُ كَلِمَةَ ابْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا فَإِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُابو اسحاق سے مروی ہے کہ ایک شخص نے (ازراہِ مذاق) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی تھے اور تم ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز فرار نہیں ہوئے تھے۔ اور میں نے خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ مل کر مٹی اُٹھا رہے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیںیہاں تک کہ مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی جلد کو چھپا دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن رواحہ کے یہ کلمات زبان سے ادا فرما رہے تھے: اَللّٰہُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا،وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا،فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا،وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا،فَإِنَّ الْأُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا،وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا (یا اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہِ ہدایت نہ پا سکتے اور ہم نہ صدقے کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے، تو ہمارے اوپر سکون نازل فرما اور اگر ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، ان کفار نے ہمارے اوپر سرکشی کی ہے اور دین کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، اگر انہوں نے کسی فتنہ وفساد کا ارادہ کیا تو ہم اس سے انکار کر دیں گے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کر کے ادا کر رہے تھے۔