حدیث نمبر: 10757
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمِّ رُومَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَتْ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ قَالَتْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ قَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ قَالَتْ قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ تَقُولِينَ هَذَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَكَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ رَجُلٌ كَانَ يَعُولُهُ أَبُو بَكْرٍ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَصِلَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [النور: 22] قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى فَوَصَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھی کہ ایک انصاری خاتون ہمارے ہاں آئی، اس سے آگے ساری حدیث گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت نازل کر دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں واپس اندر آئے اور فرمایا: عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری براء ت نازل کی ہے۔ انھوں نے کہا:اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کییہ بات سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ایسی بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ام رومان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام وتہمت لگانے والوں میں سے ایک شخص کی کفالت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے، اس واقعہ کے بعد انہوں نے قسم اُٹھا لی کہ اب اس کے ساتھ پہلے والا برتاؤ نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔{وَلَا یَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ … } تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور مال دار ہیں وہ اس بات کی قسم نہ اُٹھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مساکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے آنے والوں کو کچھ نہ دیں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیںا ور درگزر کریں، کیا تمہیںیہ پسند نہیں کہ اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ حسن برتاؤ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10757
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27611»