حدیث نمبر: 10753
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَمِّي فِي غَزَاةٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَهُ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ وَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ قَالَ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: 1] قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک غزوہ میں اپنے چچا کے ساتھ نکلا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو سنا،وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا: اس رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو اور اگر ہم مدینہ میں لوٹے تو ہم عزت والے اِن ذلیل لوگوں کو باہر نکال دیں گے۔ میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی اور میرے چچا نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی بات بتا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں کی طرف پیغام بھیجا، سو وہ آگئے، لیکن انہوں نے قسم اٹھائی کہ انہوں نے یہ بات کہی ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا قرار دیا، اس سے مجھے بہت پریشانی ہوئی، کبھی بھی اتنی پریشانی مجھے نہیں ہوئی تھی، پس میں گھر میں بیٹھ گیا، میرے چچا نے کہا: تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا کہ تو ایسی بات کہتا، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تجھ پر ناراض بھیہوئے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار دیں: {إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُونَ … } … جب وہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں، … ۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ آیات پڑھیں اور فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تجھے سچا قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10753
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4900، 4901، 4904، ومسلم: 2772 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19548»