حدیث نمبر: 10724
أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میںمجھے مالِ غنیمت میں سے ایک اونٹ ملا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ عطا فرمایا تھا، میں نے ایک دن دونوں اونٹوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس بٹھایا۔ میں اذخرگھاس کاٹ کر ان پر لاد کر لے جا کر بیچنا چاہتا تھا۔ میرے ہمراہ بنو قینقاع کا ایک صراف شخص بھی تھا، میں اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ پرخرچ کرنا چاہتا تھا۔ انصاری کے اس گھر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے کہ اچانک وہ تلوار لے کر اُٹھے اور اونٹوں کی طرف لپک کر ان کے کوہاں کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں چاک کر دیں اور ان کے جگر نکال کر چلتے بنے۔ ابن جریج راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ زہری سے دریافت کیا کہ کوہاںوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: انہیں بھی وہ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور گھبرا گیا، میں اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، اس وقت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو کر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ناراضگی کا اظہار فرمایا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نظروں کو گھمایا اور کہنے لگے: تم لوگ تو میرے باپ کے غلام ہو۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کییہ بات سن کر رسول اللہ رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں واپس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کاہے۔

وضاحت:
فوائد: … الٹے پاؤں لوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نشے میں تھے اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا دینا ممکن تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نظر رکھی اور پیچھے کو ہٹ گئے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے باپ عبد المطلب تھے، جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دادے تھے اور دادا کو سید اور آقا بھی کہا جاتا ہے، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ رشتے اور نسب میں عبد المطلب کے زیادہ قریب ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10724
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2089، 2375، 3091، ومسلم: 1979 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1201»