الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا باب: غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا الرَّحِمَ وَأَتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ فَأَحِنْهُ الْغَدَاةَ فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … ابو جہل کی اس دعا کا مصداق وہ خود ٹھہرا، کیونکہ اسی نے قطع رحمی کی تھی اور وہ بتوںکی پوجا پاٹ کی صورت ایسا عمل کرتا تھا، جو انتہائی غیر معروف تھا، پس اس کے حق میں اس کی دعا قبول ہوئی اور وہ بری طرح رسوا ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔