حدیث نمبر: 10719
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا ،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر دلوں کا مطمئن ہونا اور اس کی ذات پر مکمل توکل اور بھروسہ کرنا، اس چیز کا نتیجہ تھا کہ دشمن سامنے ہونے کے باوجود لشکر ِ اسلام کییہ کیفیت تھی اور ان کو دشمن کا کوئی خوف و خطر نہیں تھا، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی کم تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10719
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4562 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16470»