حدیث نمبر: 10717
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَأُرَاهُ قَالَ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔

وضاحت:
فوائد: … لشکر ِ اسلام میں اسلحہ کی قلت بھی تھی اور دور سے تیر فائر کر دینے سے تیر ضائع بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دوری کی وجہ سے نشانے پر نہ لگے یا دشمن کو اس سے بچنے کا موقع مل جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10717
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3984، 3985 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16157»