حدیث نمبر: 10713
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتُ لَهُمْ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ عَلِمُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتولینِ بدر کو کنوئیں میں پھینک دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا، پس ان کو اس میں پھینک دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف اپنی زرہ کے اندر اس قدر پھول چکا تھا اور اس کے اندر پھنس گیا، جب صحابہ کرام نے اسے کھینچا تو اس کے اعضاء الگ ہو گئے، سو انھوں نے اسے ویسے ہی رہنے دیا اور اس پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا، جب ان مقتولین کو کنوئیں میں ڈالا جا چکا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اوپر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیاہے؟ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے سچا پالیا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مردوں سے کلام کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا یعنی ان سے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان مقتولین نے آپ کی باتیں سن لی تھیں، میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۳۳۵۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10713
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 7088، والحاكم: 3/ 224 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26893»