حدیث نمبر: 10712
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطَّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ جَزَاكُمُ اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان مقتول سردارانِ قریش عتبہ، ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے، جنہیں کنوئیں میں پھینک دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور فرمایا: تم ایک نبی کی ایسی قوم ہو، جو اس کے شدید مخالف اور بہت زیادہ تکذیب کرنے والے تھے، اللہ نے تمہیں بہت بُرا بدلہ دیا، میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی نسبت میری بات کو زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تمہاری بہ نسبت میری بات کو زیادہ سمجھ رہے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10712
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة ، ورواية مغيرة بن مقسم عنه ضعيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25886»