الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَصَارِعِ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَرَمْي جُنَيْهِم فِي بِشْرٍ ثُمَّ نِدَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالتَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ باب: اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی¤جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ¤کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُواسیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب صحابۂ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یوں کلام کرتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پورا پا لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے ہو؟ لیکن وہ جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔