الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَلِ اللَّعِيْنِ أَبِي جَهْلٍ فِرْعَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ فَرِحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ باب: اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ وَقَالَ مَرَّةً يَعْنِي أُمَيَّةَ صَدَقَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ وَفِي لَفْظٍ آخَرَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو ہلاک کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت دی۔ امیہ بن خالد راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اپنے بندے کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے دین کو عزت دی۔ ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پوراکیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست دی۔