حدیث نمبر: 10704
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَوَاقِفٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِي الصَّفِّ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّهُ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُهُ لَمْ يُفَارِقْ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا قَالَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ قَالَ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ لَهُمَا أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبَكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ فَابْتَدَرَاهُ فَاسْتَقْبَلَاهُ فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ قَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ كِلَاكُمَا قَتَلَهُ وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَهُمَا مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو دو نو عمر انصاری بچوں کے درمیان کھڑا ہوا پایا، میں نے سو چا کہ کاش میرے قریب ان نو عمر بچوں کی بجائے کوئی طاقت ور آدمی ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے متوجہ کر کے پوچھا چچا جان!کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! لیکن بھتیجے! یہ تو بتلاؤ تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ وہ بولا: میں نے سنا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی ہوئی ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے اس وقت تک جدانہ ہوں گا، جب تک کہ ہم میں سے جس نے پہلے مرنا ہے وہ مرنہ جائے، اس کے ساتھ ہی دوسرے نوجوان لڑکے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، اس نے بھی مجھ سے ویسی ہی بات کی، مجھے ان دونوں کی باتوں پر تعجب ہوا۔ اتنے میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ کافر لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ یہی وہ آدمی ہے جس کی بابت تم دریافت کر رہے ہو، وہ یہ سنتے ہی اس کی طرف لپکے، ابوجہل کا ان دونوں سے سامنا ہوا تو انہوں نے وار کر کے اسے قتل کر ڈالا، اور اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ اسی نے قتل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کا حاصل شدہ سامان کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا، ان دونوں نوجوانوں کے نام سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو جہل پر حملہ کرنے والے سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معوذ رضی اللہ عنہ نے یہ کارنامہ سر انجام دیا۔
ابن اسحاق جمع و تطبیق کییہ صورت پیش کی ہے: عفراء کا بیٹا معوّذ اور اس کا بھائی معاذ، ممکن ہے کہ سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ابو جہل پر حملہ کیا ہو، ان کے بعد سیدنا معوّذ بن عفرا رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی ضرب لگائی ہو اور پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ کر اسے جہنم رسید کر دیا ہو، اس طرح سے سارے اقوال اور روایات کے درمیان تنطبیق ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3141، 3964، ومسلم: 1752 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1673»