الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ النَّبِيِّ ا صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَاسْتِعَانَتِهِ بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَنُزُولِهِ مَعْمَعَةَ الْقِتَالِ بِنَفْسِهِ وَشُجَاعَتِهِ وَاتْقَاءِ الْمُحَارِبِينَ بِهِ وَتَابِيْدِ اللَّهِ بِالْمَلائِكَةِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 10703
عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ إِذَا وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو داؤد مازنی رضی اللہ عنہ ،جو غزوۂ بدر میں شریک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اچانک میری تلوار اس تک نہ پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر دور جا گرا، میں جان گیا کہ اسے میرے سوا کسی دوسرے نے قتل کیا ہے۔