الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ النَّبِيِّ ا صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَاسْتِعَانَتِهِ بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَنُزُولِهِ مَعْمَعَةَ الْقِتَالِ بِنَفْسِهِ وَشُجَاعَتِهِ وَاتْقَاءِ الْمُحَارِبِينَ بِهِ وَتَابِيْدِ اللَّهِ بِالْمَلائِكَةِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 10701
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پناہ ڈھونڈتے تھے اور ہم سب کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کے انتہائی قریب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔