حدیث نمبر: 107
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ أَوْ ذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ)) وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرَ وَالشَّرَفَ وَالْعِزَّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلَّ وَالصِّغَارَ وَالْجِزْيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔“ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف بہ اسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔“

وضاحت:
فوائد: … سابق حدیث میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي: 9/ 181، والحاكم: 4/ 430، والطبراني في الكبير : 1280 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17082»