الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثانية للهجرة— سنہ (۲) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِدَّتِ غَزَوَاتِهِ وَشَيْءٍ مِنْ آدَابِ الْعَزْمِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کی تعداد اور جنگ وقتال کے بعض آداب کا بیان
حدیث نمبر: 10686
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینوں میں قتال نہیں کیا کرتے تھے، سوائے اس صورت کے کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھائی کر دیتا، اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینے کے گزرنے تک رک جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حرمت والے مہینے چار ہیں: محرم، رجب، ذو القعدہ، ذوالحجہ۔ جنگ و جدل کے معاملے میں ان چار مہینوں کا ادب یہ ہے کہ اہل اسلام کسی سے جنگ شروع نہ کریں، ہاں اگر دشمن یورش کر دے تو جوابی کاروائی کرتے ہوئے ان سے جہاد کیا جائے گا۔