الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاوَاةِ الْيَهُودِ وَمُنَافِقِي الْمَدِينَةِ للنبي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌسیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عجمی قوم جرامقہ کا ایک فرد صحابہ کرام کے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہارے وہ صاحب کہاں ہیں جو نبی ہونے کے دعوے دار ہیں؟ میں ان سے کچھ دریافت کر نا چاہتا ہوں ، تاکہ جان لوں کہ وہ نبی ہیںیا نہیں ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے کچھ تلاوت کریں یا بیان کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے کتاب اللہ کی چند آیات کی تلاوت کی، جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام بھی ایسی ہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ عبداللہ بن احمد نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے۔