حدیث نمبر: 10680
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ فَقَالَ ارْفَعْ أَوِ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ قَالَ فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مسور بن مخرمہ زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، ایک یہودی میرے پاس سے گزرا اور اس نے کہا ان کی پشت پر سے کپڑا اوپر اُٹھاؤ، تو میں آپ کا کپڑا اوپر کو اٹھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ مذاق یا اس کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے اس کے منہ پر چھینٹے مارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10680
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال ام بكر بنت المسور، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 20/ 32 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19115»