الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاوَاةِ الْيَهُودِ وَمُنَافِقِي الْمَدِينَةِ للنبي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
حدیث نمبر: 10678
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ فَمَسَخَهُمْ فَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق دریافت کیا کہ کیایہ یہودیوں کی مسخ شدہ نسل سے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہو اکہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پرلعنت کرتے ہوئے انہیں مسخ کر دے اور انہیں ہلاک کر دے اور پھر ان کی نسل چلے، در حقیقت یہ مخلوق ان کے مسخ کئے جانے سے پہلے کی ہے، اللہ تعالیٰ جب یہود پر غضب ناک ہوا تو اس نے ان کو ان مخلوقات کی مانند بنا دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مُسِخَتْ اُمَّۃٌ قَطُّ، فَیَکُوْنُ لَھَا نَسْلٌ۔)) … جس امت کو بھی (کسی دوسری شکل میں) مسخ کیا گیا، اس کی نسل نہیں ہوئی۔
(معجم اوسط طبرانی:۴۲۹، صحیحۃ:۲۲۶۴)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنی امتوں کو مسخ کیا گیا اب ان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے، بندر اور خنزیر وغیرہ مستقل جنسیں ہیں،یہ کسی انسان کی مسخ شدہ شکلیں نہیں ہیں، بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میںمسخ ہونے والے بنو اسرائیل ہلاک ہو گئے، اس حالت میں ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔
(معجم اوسط طبرانی:۴۲۹، صحیحۃ:۲۲۶۴)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنی امتوں کو مسخ کیا گیا اب ان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے، بندر اور خنزیر وغیرہ مستقل جنسیں ہیں،یہ کسی انسان کی مسخ شدہ شکلیں نہیں ہیں، بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میںمسخ ہونے والے بنو اسرائیل ہلاک ہو گئے، اس حالت میں ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔