الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ الْأَذَانِ وَزِيَادَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ الحَ باب: اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
حدیث نمبر: 10676
عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات ثابت ہے کہ جب نماز فرض ہوئی تو فجر، ظہر، عصر اور عشا کی نمازوں کی فرض رکعات کی تعداد دو دو تھی اور نماز مغرب کی تین رکعات تھیں، پھر رکعتوں کی اس تعداد کو سفرکے ساتھ خاص کیا گیا اور حضر کے لیے ظہر، عصر اور عشا کی چار چار رکعات فرض کر دیگئیں، فجر اور مغرب کی تعداد وہی رہی، البتہ حضر میں نمازِ فجر میں طویل قراء ت مطلوب اور مستحب ہے۔