حدیث نمبر: 10676
عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات ثابت ہے کہ جب نماز فرض ہوئی تو فجر، ظہر، عصر اور عشا کی نمازوں کی فرض رکعات کی تعداد دو دو تھی اور نماز مغرب کی تین رکعات تھیں، پھر رکعتوں کی اس تعداد کو سفرکے ساتھ خاص کیا گیا اور حضر کے لیے ظہر، عصر اور عشا کی چار چار رکعات فرض کر دیگئیں، فجر اور مغرب کی تعداد وہی رہی، البتہ حضر میں نمازِ فجر میں طویل قراء ت مطلوب اور مستحب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10676
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، الشعبي لم يسمع من عائشة، ويغني عنه الحديث بالطريق الأول، أخرجه ابن خزيمة: 305، 944، وابن حبان: 2738، ، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 415 ، وابن ابي شيبة: 14/ 132، واسحاق بن راھويه: 1635 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26570»