حدیث نمبر: 10675
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

امام نافع سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت انتظار کیا کرتے تھے، اس وقت کوئی بھی اذان دینے والا نہیں ہوتا تھا، ایک دن صحابہ نے اس بارے میں گفتگو شروع کی، بعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس جیسا ناقوس بنا لو۔ بعض نے کہا کہ ناقوس تو نہیں ہونا چاہیے، البتہ یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ مقرر کر لو۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں کرتے کہ کسی کو بھیج دیا کرو جو نماز کا اعلان کر دیا کرے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 604، ومسلم: 377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6357»