حدیث نمبر: 10672
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( قبل از ہجرت) ماہِ شوال میں مجھ سے نکاح کیا تھا اور ( بعد ازہجرت) ماہ شوال میں میری رخصتی ہوئی، تو کونسی بیوی مجھ سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظورِ نظر تھی، اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ اپنے خاندان کی عورتوں کی ماہِ شوال میں شادی کریں۔

وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۵۵۲)، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں اور اس حدیث والے باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا ذکر ہے۔
دورِ جاہلیت میں شوال میں شادی کرنے کو ناپسند کیا جاتا تھا، یہ ایک باطل نظریہ اور بے بنیاد خیال تھا، امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوال کے مہینے میں نکاح کرنا اور شادی کرنا مستحب ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شوال کا ذکر کر کے دراصل جاہلیت کی توہم پرستی کا ردّ کر رہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1423 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26235»