الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِبْلَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضي الله عنه وَبَنَائِهِ الله بِعَائِشَة رضی اللہ عنہا باب: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا بیان
عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِسیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مکہ میں حاملہ ہو گئی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں جب مکہ سے سفر ہجرت پر روانہ ہوئی تو ایام حمل پورے ہو چکے تھے، میں مدینہ منورہ آئی اور قباء میں قیام کیا، وہیں میں نے بچے کو جنم دیا، میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائی اور میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب مبارک داخل ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے حق میں برکت کی دعا کی، اسلام کے دور میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔