الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ ذِكْرِ مَا أَصَابَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ حُمَّى الْمَدِينَةِ باب: اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
حدیث نمبر: 10668
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ شدید قسم کی وبائی زمین تھی، پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی فضا کو صحت والا کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے جُحفہ کے علاقے میں منتقل کر دے۔