الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ باب: اہلِ مدینہ کی خواتین کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 10667
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتْ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رُقَيْقَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقِي وَلَا تَزْنِي وَلَا تَقْتُلِي وَلَدَكِ وَلَا تَأْتِي بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ يَدَيْكِ وَرِجْلَيْكِ وَلَا تَنُوحِي وَلَا تَتَبَرَّجِي تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسلام کی بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری اور زنانہیں کرو گی، اپنے بچوں کو قتل نہ کرو گی، اور از خود گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی، نوحہ نہیں کرو گی اور پہلی جاہلیت کی طرح سرِ عام بے پردہ نہ گھومو گی۔