الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ باب: اہلِ مدینہ کی خواتین کی بیعت کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ قُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ قُلْنَا نَعَمْ فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَنَهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ نُهِينَا عَنِ النِّيَاحَةِسیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ جا کر دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کہا، ان عورتوں نے سلام کا جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: ہم اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کے قاصد کو مرحبا اور خوش آمدید کہتی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان امور پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گی،تم از خود کوئی بات بنا کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی اور نوحہ نہیں کرو گی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے گھر کے اندر سے اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے اور انھوں نے باہر ہی سے اپنا بڑھایا، ہاتھ ملائے بغیر ہی محض اشارے سے بیعت ہوئی۔ پھر انھوں نے فرمایا: یا اللہ! گواہ رہنا۔ انھوں نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عیدین کے موقعہ پر نوجوان لڑکیوں کو اور حیض والی خواتین کو بھی باہر، عیدگاہ کی طرف عید کے لیے لے جایا کریں اور انھوں نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، نیز فرمایا کہ ہمارے لیے جمعہ کی حاضری ضروری نہیں۔ اسمٰعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے دریافت کیا کہ حدیث میں وارد لفظ {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لفظ کے ذریعے ہمیںنوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ویسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ذیل آیت کی روشنی میں خواتین سے بیعت لیا کرتے تھے: { ٰٓیاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اگلی حدیث میں بھییہی آیت مراد ہے۔