الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ باب: مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10664
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین یہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔