حدیث نمبر: 10661
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … جنگ فجار کے بعد ہی ذیقعدہ کے مہینے میں پانچ قبائل کے درمیان ایک عہد نامہ طے پایا، جسے حلف الفضول کہتے ہیں، ان قبائل کے نام یہ ہیں: بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو اسد، بنوزہرہ اور بنو تیم۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ زبید (یمن) کا ایک آدمی سامان تجارت لے کر مکہ آیا، عاص بن وائل نے اس سے سامان خرید لیا، لیکن قیمت ادا نہ کی، اس نے بنو عبد الدار، بنو مخزوم، بنو جمح، بنو سہم اور بنو عدی سے فریاد کی، لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی، چنانچہ اس نے جبل ابو قبیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ بیان کیا اور آواز لگائی کہ کوئی اس کا حق دلانے کے لیے اس کی مدد کرے۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی، چنانچہ مذکورہ قبائل کے افراد بنو تیم کے سردار عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور آپس میں عہد و پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور عاص بن وائل سے زبیدہ کا حق لے کر اس کے حوالے کیا۔
اس عہد و پیمان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچاؤں کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر بیس برس تھی اور شرف رسالت سے مشرف ہونے کے بعد اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
ان افراد نے اس معاہدے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے خوشبو کا ایک ٹب بھرا، اس کو کعبہ کے پاس مسجد حرام میں رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ ڈبوئے اور پھر یہ خوشبوزدہ ہاتھ کعبہ کو لگائے، اسی بنا پر اس معاہدے میں شریک افراد کو مُطَیَّبِین (خوشبودار بنائے گئے افراد) کہا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاہدوں کی تعریف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ کسی دنیوی لالچ میں پڑ کر ایسے معاہدوں کو نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ ان کو اسلام میں بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10661
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا مرسل، لكن ورد معناه في احاديث موصولة صحيحة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1655»