الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ باب: مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10659
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عہد و پیمان کی دو قسمیں ہیں: (۱) عہدوپیمان کی وہ صورتیں جن سے اسلامی تعلیمات کی مخالفت ہوتی ہو، مثلا دو افراد کا آپس میں یہ معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، اس سے اللہ تعالیٰ کے میراث سے متعلقہ قوانین متاثر ہوں گے، اسی طرح خواتین کا آپس میں معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسری کے اموات پر مل کر نوحہ کریں گی، وغیرہ وغیرہ۔ عہد و پیمان کییہ قسم ہر صورت میں ممنوع ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑھے گا کہ اسلام سے پہلے اس کا تعین کیا گیایا بعد میں۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔