الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الأولى للهجرة— سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ باب: مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10658
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ انصار کا کرم اور ان کی خوبی تھی کہ وہ مہاجرین کو اپنے گھر ٹھہرانے اور ان کی میزبانی کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حقیقی نمونہ تھے کہ {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖفَاُولٰیِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} … اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ سورۂ حشر: ۹)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محبت و ایثار کو انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ کرا کے مزید پختہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر انصاری اور اس کے نزیل (مہاجر مہمان) کو بھائی قرار دیا،یہ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین سے اور آدھے انصار سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان غمگساری پر اور اس بات پر بھائی چارہ کرایا کہ قرابت داروں کے بجائے وہی موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بعد میں وراثت تو منسوخ کر دی گئی، لیکن بھائی چارگی باقی رہی۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محبت و ایثار کو انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ کرا کے مزید پختہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر انصاری اور اس کے نزیل (مہاجر مہمان) کو بھائی قرار دیا،یہ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین سے اور آدھے انصار سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان غمگساری پر اور اس بات پر بھائی چارہ کرایا کہ قرابت داروں کے بجائے وہی موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بعد میں وراثت تو منسوخ کر دی گئی، لیکن بھائی چارگی باقی رہی۔