حدیث نمبر: 106
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ، إِمَّا يُعِزُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہلِ اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔“

وضاحت:
فوائد: … عزت والے کی عزت کے ساتھ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ قید و قتال سے پہلے ہی برضا و رغبت مشرف باسلام ہو جائیں گے۔ ذلت والے کی ذلت کے ساتھ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قید یا قتال کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں، دل سے راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر ایسے لوگ بہترین مسلمان بن کر اچھے انجام سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم بنتا ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔} … وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اور اللہ تعالیٰ گواہی دینے والا کافی ہے۔ (سورۂ فتح: ۲۸)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ … } نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۲/۲۹۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 6699، والطبراني في الكبير : 20/ 601، والحاكم: 4/ 430، والبيھقي: 9/ 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24315»