الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي سَمَاحَةِ دِينِنَا الإِسْلامِ وَالاعْتِزَازِ بِهِ وَأَنَّهُ أَحَبُّ الأَدْيَانِ باب: دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
عَنْ غَاضِرَةَ بْنِ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي عُرْوَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَجُلًا يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ دِينَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي يُسْرٍ)) ثَلَاثًا يَقُولُهَاسیدنا عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے لگے کہ ”اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔