الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَاتِمِ نِ الطَّائِيِّ باب: حاتم طائی کا ذکر
حدیث نمبر: 10447
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا اور دیگر کئی امور سر انجام دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے باپ نے جس چیز کا ارادہ کیا، اس کو پا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … حاتم کی سخاوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں تھا، بلکہ شہرت طلبی تھا،اوروہ پورا ہو چکا ہے، ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں اور قابل مذمت ہوتا ہے۔