الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَرْبِ الْعَارِبَةِ وَالْمُسْتَعْرِبَةِ وَإِلَى مَنْ يَنتَسِبُونَ وَذِكْرِ قَحْطَانَ وَقِصَّةِ سَبَا باب: عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ¤عاربہ: خالص عرب¤مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
حدیث نمبر: 10443
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٌ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔ حمیریمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔