حدیث نمبر: 10435
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ وَصَبِيٌّ آخَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ وَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي إِذَا اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا ثُمَّ صَلَّى وَدَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَلَّى فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ وَقَالَتْ اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے: (۱) عیسی بن مریم علیہ السلام ، (۲) جریج کے زمانے کا ایک بچہ اور (۳) ایک اور بچہ، … … ،پھر باقی حدیث ذکر کی، اس میں کچھ تفصیل یوں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جریج بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزار آدمی تھا، اس کی ماں بھی حیات تھی، ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اُدھر ماں کو اپنے بیٹے کا اشتیاق پیدا ہوا اور اس نے کہا: اے جریج! اس نے نماز کے اندر ہی کہا: اے میرے ربّ! اب نماز بہتر ہے یا اپنی ماں کے پاس چلا جاؤں؟ پھر اس نے نماز جاری رکھی، ماں نے دوبارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا، ماں نے سہ بارہ آواز دی، اس نے پھر اسی طرح کیا اور نماز جاری رکھی،یہ چیز ماں پر بڑی گراں گزری، چنانچہ اس نے کہا: اے اللہ! زانی عورتوں سے جریج کا واسطہ پڑے، پھر وہ اپنے گرجا گھر کی طرف چڑھا اور بنی اسرائیل کی زانی عورت، … … ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10435
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8058»