الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصَّاصِينَ باب: قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10427
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔
وضاحت:
فوائد: … مؤطا امام مالک (۱/ ۱۶۵) میں مرفوع حدیثیوں ہے: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قُوْلُوا: اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) … تم اس طرح کہو: اے اللہ! تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، آپ کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے رحمت کی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، اور تو برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بیشک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۹، صحیح مسلم: ۴۰۷، واللفظ للامام مالک)