الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصَّاصِينَ باب: قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10426
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَيُّ مَجْلِسٍ تَعْنِي قَالَ كَانَ قَاصًّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔