الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصَّاصِينَ باب: قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10425
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔