الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصَّاصِينَ باب: قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10422
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا فَمَا رُئِيَ يَقُصُّ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب رضی اللہ عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔