حدیث نمبر: 10313
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي)) قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فَبَسَطَ إِلَيَّ يَدَهُ لِيَقْتُلَنِي قَالَ ((كُنْ كَابْنِ آدَمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان علیہ السلام کے فتنے کے دوران کہا: میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عنقریب فتنے ہوں گے، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے ، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے اور اس میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ قاتل مجھ پر میرے گھر میں گھس آئے اور مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جانا۔‘

وضاحت:
فوائد: … شریعت نے ہر مسلمان کو انتقام لینے کا اور اپنی جان، مال اور عزت کا دفاع کرنے کا حق دیا ہے، لیکن پرفتن دور کے احکام عام حالات سے مختلف ہیں، فتنوں کے دور میں ہر ظلم کا جواب دینا عقلمندی نہیں ہوتی، کیونکہ جواب کے مقابلے بڑا ظلم سہنا پڑتا ہے، پھر ایسا سلسلہ چلتا ہے کہ نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدم علیہ السلام کے جس بیٹے کی مثال دی، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ۔ لَئِنْ بَسَطْتَّ اِلَیَّیَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ
مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْأَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَذٰلِکَ جَزٰؤُ ا الظّٰلِمِیْنَ۔فَطَوَّعَتْ لَہ نَفْسُہ قَتْلَ اَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔} … اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر، جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ اگر تو نے اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے بڑھایا کہ مجھے قتل کرے تو میں ہرگز اپنا ہاتھ تیری طرف اس لیے بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کروں، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹے، پھر تو آگ والوں میں سے ہو جائے اور یہی ظالموں کی جزا ہے۔ تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا، سو اس نے اسے قتل کر دیا، پس وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ (سورۂ مائدہ: ۲۷ تا ۳۰)
حسد، بغض اور سرکشی کا انجام برا ہوتا ہے، قتل کرنے والا قابیل اور قتل ہونے والا ہابیل تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ابوداود: 4257، والترمذي: 2194 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1609»