حدیث نمبر: 10308
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ قَالَ وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي)) الحديث
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، یہ سفارش والی طویل حدیث ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں پر زمانہ طویل ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: چلو، ابو البشر کی طرف چلتے ہیں، تاکہ وہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کریں اور وہ ہمارا حساب کتاب شروع کرے، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے: اے آدم! آپ وہ ہستی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو جنت میںٹھہرایا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کروایا، پس آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش تو کر دیں، تا کہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، پس وہ جواب دیں گے: میں اس سفارش کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری خطا کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اس خطا کو معاف کر دیا ہے، لیکن انبیائے کرام پر اللہ کا خوف اور خشیت ِ الہی کی ایسی فکر ہو گی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دینے سے خطرہ محسوس کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10308
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرج نحو ھذا الترمذي: 3148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»