حدیث نمبر: 10298
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو جب تک چاہا(ان کے ڈھانچے کو) پڑا رہنے دیا، ابلیس گھوم کر اس کو دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ توپیٹ والا ہے یایہ اندر سے خالی ہے تو اس نے کہا: یہ ایسی مخلوق ہے،جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ یعنی یہ وجود اپنے آپ کو شہوات سے نہیں روک سکے گا، وسوسوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، نیز غصے پر بھی قابو نہیں پا سکے گا، الا من عصمہ اللہ۔ ابلیس کو کیسے اندازہ ہوا؟ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، معلوم نہیں کہ اُس دور کی صفات اور اس وقت کی مخلوقات کی اہلیتیں اور تجربات کیا کیا تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2611 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12567»