حدیث نمبر: 10291
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ خَرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ قُلْنَا مَا نَعْرِفُهُ قَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ قَالُوا هَذَا قَالَ إِمَّا أَنَّهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا إِمَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10291
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عمر بن نبھان العبدي ضعيف، وسلام ابو عيسي مجھول، أخرجه الطبراني في الكبير : 7345، والحاكم: 3/ 519 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23039»