الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ طَائِفَةٍ مِنَ الْجِنِّ وَمُقَابَلَتِهِمْ لِلنَّبِيُّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَاسْتِمَاعِهِمُ الْقُرْآنَ مِنْهُ باب: جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ خَرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ قُلْنَا مَا نَعْرِفُهُ قَالَ أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ قَالُوا هَذَا قَالَ إِمَّا أَنَّهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا إِمَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔