الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ طَائِفَةٍ مِنَ الْجِنِّ وَمُقَابَلَتِهِمْ لِلنَّبِيُّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَاسْتِمَاعِهِمُ الْقُرْآنَ مِنْهُ باب: جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ يَعْنِي حَوْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔