حدیث نمبر: 10288
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ يَعْنِي حَوْلَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔

وضاحت:
فوائد: … سوڈان اور ہند کی ایک جنس کانام زُط ہے۔نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہیہ مائے مطلق نہیں ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10288
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الدارقطني: 1/77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4353»