الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ طَائِفَةٍ مِنَ الْجِنِّ وَمُقَابَلَتِهِمْ لِلنَّبِيُّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَاسْتِمَاعِهِمُ الْقُرْآنَ مِنْهُ باب: جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سننے کا بیان
حدیث نمبر: 10287
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں جنوں کے وفد والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سانس لیا، میں نے کہا: آپ کوکیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔