حدیث نمبر: 10286
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَقَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنْ قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا اغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ سَأَلُوهُ الزَّادَ قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ عَامِرٌ فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر خوب گوشت دار ہڈی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ لگے (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4149»