حدیث نمبر: 10268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ قَالَ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي قَالَ فَيَقُولُونَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ قَالَ سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ أَحَدَ الرُّوَاةِ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نماز ِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پھر جب عصر کی نماز میںجمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، پس تو ان کو جزا کے دن بخش دینا۔

وضاحت:
فوائد: … کِرَامًا کَاتِبِیْن یعنی نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے فرشتے، فجر اور عصر کی نمازوں میں ان کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں، ان دونوں نمازوں میں یہ اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر بندے کی نماز کی شہادت دیتے ہیں، وہ لوگ کتنے بد بخت ہیں، جن کے بارے میں بارگاہِ عالیہ میں یہ شہادت دی جاتی ہو گی کہ وہ نماز سے غیر حاضر تھے اور فلاں فلاں دنیوی کام میں پڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 555، 7429، 7486، ومسلم: 632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9140»