الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ باب: فرشتوں کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10259
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت جبریل علیہ السلام کی اپنی خاص شکل تھی، جب وہ انسانی روپ میں آتے تھے تو دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔