الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ الْمَلَائِكَةِ باب: فرشتوں کی تخلیق کا بیان
حدیث نمبر: 10257
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں درج ذیل حدیث کے باطل ہونے کا اشارہ دیا گیا، جو لوگوں کے ہاں بڑی مشہور ہے: ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرُ نَبِیِّکَیَا جََابِرُ۔)) … اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)