الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ باب: بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10256
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔